Nabz e Baqa Episode 1 Online Reading

Nabz ebaqa Episode 1
Nabz ebaqa Episode 1

You can read Episode 1 of Saya Mohabbat Episodic – Best Urdu Novels Series

Read Nabz e Baqa Episode 1

ناول: نَبْضِ بَقا …. قسط نمبر 1

لاہور کے سب سے بڑے اور مایہ ناز نجی ہسپتال “شاہ میڈیکل سٹی” کا ایمرجنسی وارڈ اس وقت کسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی، اور اس کی آواز کے ساتھ ہی سائرن بجاتی ہوئی ایمبولینسز کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔ وارڈ کے اندر کی فضا اینٹی سیپٹک، کلوروفارم کی بو اور مریضوں کی دھیمی سسکیوں سے بوجھل تھی۔ یہاں ہر دھڑکن، ہر سانس ایک نئی زندگی کی تلاش میں تڑپ رہی تھی۔
وارڈ کے بیڈ نمبر 4 پر ایک انتہائی نازک حالت میں ٹریفک ایکسیڈنٹ کا کیس لایا گیا تھا۔ مریض کے سر سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا اور اس کی نبض ڈوب رہی تھی۔
“سسٹر! جلدی سے نارمل سیلائن اور کینولا تیار کریں! بلڈ پریشر بہت تیزی سے گر رہا ہے،” ایک دھیمی، پختہ مگر حد درجہ فکرمند آواز گونجی۔
وہ ڈاکٹر انعمتا جہانگیر تھی۔
میڈیکل کالج کی پوزیشن ہولڈر گریجویٹ اور اسی ہسپتال میں ہاؤس جاب کرنے والی نئی ڈاکٹر۔ سفید سمارٹ لیب کوٹ، گلے میں لٹکا سٹیتھوسکوپ، اور سر پر سلیقے سے جما ہوا حجاب۔ اس کی بڑی بڑی جھیل جیسی آنکھوں میں اس وقت صرف اپنے مریض کی جان بچانے کا ایک مخلصانہ جنون تھا۔ اس نے بڑی مہارت سے مریض کے سر کا خون روکنے کے لیے پریشر پیڈ لگایا اور اس کی نبض پر اپنی انگلیاں ٹکا دیں۔
ابھی وہ مریض کو اگلا انجکشن دینے ہی والی تھی کہ ایمرجنسی وارڈ کے بھاری شیشے کے خودکار دروازے ایک جھٹکے سے کھلے۔ وارڈ میں موجود تمام جونیئر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف یکدم الرٹ ہو کر انتہائی ادب سے سیدھے کھڑے ہو گئے۔ فضا کا درجہ حرارت جیسے یکسر بدل چکا تھا۔
اپنے جونیئرز اور اسسٹنٹ سرجنز کے ایک پورے اسکواڈ کے ساتھ وہ اندر داخل ہوا۔
ڈاکٹر صارم شاہ۔
ملک کا سب سے کم عمر، مایہ ناز اور حد درجہ اصول پسند اور سخت مزاج نیورو سرجن (Neurosurgeon)۔ چھ فٹ ایک انچ کا کسرتی، رعب دار وجود۔ گہری، باریک بھوری آنکھیں جن میں اس وقت صرف ایک سرد جلال ناچ رہا تھا، اور چہرے پر سدا کا سنجیدہ رعب۔ وہ جتنا لائق ڈاکٹر تھا، نظم و ضبط اور اصولوں کا اتنا ہی پابند اور سخت تھا۔ اس کے لبوں پر کبھی مسکراہٹ نہیں دیکھی گئی تھی؛ اس کے لیے ہر مریض ایک انتہائی اہم “طبی ذمہ داری” تھا، اور وہ ہر پیچیدہ سرجری کو کامیابی سے ہمکنار کرنا جانتا تھا۔ اس کا واحد جنون ہسپتال میں اس کی حاکمیت، اس کے طبی اصول اور کڑا ڈسپلن تھا۔
ڈاکٹر صارم شاہ دھیمے مگر رعب دار قدموں سے چلتا ہوا بیڈ نمبر 4 کے قریب آ کر رک گیا۔ اس نے انعمتا کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے سرنج کو دیکھا، پھر ایک باریک بین نظر مریض کے مانیٹر پر ڈالی۔
“ہاتھ پیچھے کیجیے، ڈاکٹر انعمتا!” صارم کی کڑک دار، بھاری اور گونج دار آواز وارڈ کی دیواروں سے ٹکرائی۔
انعمتا نے چونک کر سر اٹھایا اور سیدھا صارم کی رعب دار آنکھوں میں جھانکا۔ “سر! مریض کا انٹرا کرینیئل پریشر (Intracranial Pressure) بڑھ رہا ہے، اگر میں نے یہ انجکشن ابھی نہ دیا تو—”
“میں نے کہا ہاتھ پیچھے کیجیے!” صارم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے انتہائی سخت اور دو ٹوک لہجے میں کہا۔ اس نے آگے بڑھ کر انعمتا کے ہاتھ سے سرنج لی اور اسے سائیڈ پر رکھا۔ “یہ شاہ میڈیکل سٹی کا ایمرجنسی وارڈ ہے، آپ کا کوئی لوکل فری کلینک نہیں ہے جہاں بنا سوچے سمجھے فیصلے کیے جائیں! جونیئرز کا یہ کچا جوش اور ناتجربہ کاری مریض کو زندگی نہیں، سیدھا موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ کیس ہسٹری کا مکمل مطالعہ کیے بغیر آپ اسے یہ مینوئل ڈوز کیسے دے سکتی ہیں؟ اگر مریض کو کوئی شدید ری ایکشن ہو جاتا تو اس کی طبی اور قانونی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی؟”
وارڈ میں موجود تمام لوگوں کا سانس رک گیا۔ انعمتا کا چہرہ غصے اور سب کے سامنے ہونے والی اس سخت تنقید کی وجہ سے یکدم سرخ ہو گیا، مگر اس نے اپنی خودداری اور وقار کو برقرار رکھا۔ اس نے اپنے ہاتھ بھینچ لیے، مگر پیچھے نہیں ہٹی۔ “سر! میں صرف اپنی پیشہ ورانہ ڈیوٹی کر رہی تھی، مریض کے پاس وقت نہیں تھا اور اس کی ایمرجنسی پروفائل میرے سامنے تھی۔”
“آپ کی ڈیوٹی کا طریقہ کار اور حدود اب میں طے کروں گا، ڈاکٹر انعمتا،” صارم نے انتہائی سرد اور دھیمے لہجے میں کہا، مگر اس کی آواز میں ایک ایسا دباؤ تھا جو کسی کو بھی مغلوب کر دے۔ “آپ اس ہسپتال کے چیف سرجن کے سامنے کھڑی ہیں۔ نرس! انہیں فوراً آپریشن تھیٹر ون (OT-1) میں شفٹ کیجیے، میں خود سرجری کروں گا۔ اور ڈاکٹر انعمتا! کل صبح سے آپ کی ڈیوٹی نیورو سرجری کے سب سے مشکل وارڈ میں ہوگی، چوبیس گھنٹے کی کڑی شفٹ کے ساتھ۔ میں دیکھتا ہوں آپ کا یہ سرکش جوش اور پیشہ ورانہ غرور کتنے دن چلتا ہے۔”
وہ جھٹکے سے مڑا اور اپنے اسکواڈ کے ساتھ باہر نکل گیا، لیکن جانے سے پہلے اس کی بھوری آنکھوں میں جو حاکمانہ اور سخت چمک تھی، وہ انعمتا کی خودداری کو ایک گہرا زخم دے گئی۔
سرجری ختم ہونے کے بعد، رات کے دو بجے پورا ہسپتال ایک گہرے اور پراسرار سناٹے میں ڈوب چکا تھا۔ ڈاکٹر صارم شاہ اپنے بڑے سے چیف سرجن کے آفس میں بیٹھا تھا، جہاں دیوار پر ہسپتال کے مختلف بین الاقوامی ریسرچ چارٹس اور اس کی اپنی اسناد لگی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ میں تمام جونیئر ڈاکٹرز کی پروفائلز تھیں، اور اس وقت اس کی تیز نظریں ڈاکٹر انعمتا جہانگیر کی فائل پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ انعمتا کی شاندار اکیڈمک ہسٹری، اس کے گولڈ میڈلز اور اس کی فلاحی این جی او (NGO) کے کاموں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ یہ لڑکی حد درجہ لائق اور ہونہار ہے، لیکن اس کی آنکھوں میں موجود وہ سرکش خودداری اور نڈر پن صارم کے اکھڑ اور ضدی مزاج کو ایک چیلنج محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ہسپتال میں کسی جونیئر کا یوں سامنے بولنا اور اپنے فیصلے پر اصرار کرنا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
صارم نے فائل بند کی اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ “ڈاکٹر انعمتا! آپ بہت لائق ہیں، لیکن آپ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ شاہ میڈیکل سٹی میں صرف اور صرف صارم شاہ کے اصول چلتے ہیں۔ میں آپ کی اس مغرور نبض کو اپنے نظم و ضبط کے دائرے میں لا کر ہی دم لوں گا۔”
ہسپتال کے سرد کوریڈورز میں اب ایک ضدی، اکھڑ اور مایہ ناز نگران سرجن اور ایک خوددار، نڈر جونیئر ڈاکٹر کے درمیان اعصاب اور انا کا ایک ایسا جنونی کھیل شروع ہو چکا تھا، جس کا انجام ان دونوں کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والا تھا!

You can read more novels from episodic series of best urdu uovels only on UrduNovelsMag.

You can read next episode on the main page of novel Nabz e Baqa.

Scroll to Top