Nabz e Baqa Episode 2 By Urdu Novels Mag

You can read Episode 1 of Saya Mohabbat Episodic – Best Urdu Novels Series

Read Nabz e Baqa Episode 2

ناول: نَبْضِ بَقا …. قسط نمبر 2

شاہ میڈیکل سٹی کے نیورو سرجری وارڈ میں رات کے بارہ بجے کی خاموشی حد درجہ سحر انگیز اور بوجھل تھی۔ کوریڈورز کی مدہم لیمپ لائٹس کی روشنی فرش پر سائے بکھیر رہی تھی، جہاں صرف مانیٹرز کی دھیمی بیپ اور نرسوں کے جوتوں کی آہٹ سنائی دیتی تھی۔
ڈاکٹر انعمتا جہانگیر پچھلے اٹھارہ گھنٹوں سے مسلسل آن ڈیوٹی تھی۔ ڈاکٹر صارم شاہ کے حکم کے مطابق، اسے ہسپتال کے سب سے مشکل وارڈ میں تعینات کیا گیا تھا جہاں ہر سیکنڈ میں مریض کی حالت بدل سکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں شدید تھکن کی سرخی تھی اور لیب کوٹ کی آستینیں کہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں، مگر اس کے چہرے کا وقار اور اس کے اعصاب کا ٹھہراؤ اب بھی برقرار تھا۔ وہ راؤنڈ شیٹ ہاتھ میں لیے بیڈ نمبر 7 کے مریض کے رفلیکسز (Reflexes) چیک کر رہی تھی۔
“ڈاکٹر انعمتا! آپ نے پچھلے بارہ گھنٹے سے چائے کا ایک کپ تک نہیں پیا، آپ بیمار پڑ جائیں گی،” وارڈ کی انچارج نرس، سسٹر نسرین نے فکرمندی سے کہا۔
انعمتا نے مسکرا کر راؤنڈ فائل کاؤنٹر پر رکھی۔ “شکریہ سسٹر، مگر چیف سرجن صاحب نے فرمایا تھا کہ وہ میرا پیشہ ورانہ غرور ٹوٹتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ شاہنواز کی بیٹی اتنی جلدی نہیں ٹوٹتی۔ میں اپنی شفٹ کا ایک ایک منٹ پوری ایمانداری سے پورا کروں گی۔”
اسی لمحے وارڈ کے بڑے شیشے کے دروازے خودکار طریقے سے کھلے اور وارڈ کی فضا یکدم بدل گئی۔
ڈاکٹر صارم شاہ اندر داخل ہوا۔
وہ ہمیشہ کی طرح کڑک دار شلوار قمیض اور گہرے نیلے رنگ کی واسکٹ میں ملبوس تھا۔ اس کے گلے میں سٹیتھوسکوپ لٹک رہا تھا اور اس کی گہری، باریک بھوری آنکھیں سیدھا انعمتا کے تھکے ہوئے مگر پرعزم چہرے پر جم گئیں۔ اس کے پیچھے اس کے اسسٹنٹ سرجنز کا اسکواڈ تھا۔ صارم نے اپنے ہاتھ واسکٹ کی جیبوں میں ڈالے اور دھیمے، رعب دار قدموں سے چلتا ہوا انعمتا کے کاؤنٹر کے قریب آ کر رک گیا۔
“راؤنڈ رپورٹ، ڈاکٹر انعمتا؟” صارم کی بھاری، کڑک دار آواز خاموش وارڈ میں گونجی۔
انعمتا نے انتہائی سلیقے سے فائل اٹھائی اور آگے بڑھی۔ “سر! بیڈ نمبر 3 کے مریض کا پوسٹ آپریٹو سٹیٹس (Post-operative status) بالکل نارمل ہے۔ بیڈ نمبر 5 کے مریض کا بلڈ پریشر تھوڑا فلکچوایٹ (Fluctuate) کر رہا تھا، میں نے ان کی میڈیکیشن ایڈجسٹ کر دی ہے اور اب وہ مستحکم ہیں۔”
صارم نے فائل اس کے ہاتھ سے لی اور باریک بینی سے صفحات پلٹنے لگا۔ اس کی تیز اور پارکھ نظریں انعمتا کے لکھے ہوئے طبی نوٹس، ادویات کی درست مقدار اور ٹائم چارٹ کا معائنہ کر رہی تھیں۔ وہ اندر ہی اندر دنگ رہ گیا—اتنی طویل اور کٹھن شفٹ کے باوجود انعمتا کے کام میں ایک نقطے کی بھی غلطی نہیں تھی۔ اس کا کام کسی سینئر کنسلٹنٹ کی طرح پرفیکٹ تھا۔ صارم کے مردانہ اور پیشہ ورانہ رعب کو ایک بار پھر ایک غیر محسوس دھچکا لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ انعمتا تھک کر اس سے شفٹ کم کرنے کی درخواست کرے، مگر وہ تو عزم کی چٹان بنی کھڑی تھی۔
“کام تسلی بخش ہے، ڈاکٹر انعمتا،” صارم نے فائل میز پر پٹختے ہوئے انتہائی سرد اور سپاٹ لہجے میں کہا۔ “لیکن یہ مت بھولیے گا کہ نیورو سرجری میں ایک سیکنڈ کی غفلت بھی موت کا پروانہ بن سکتی ہے۔ آپ کی ڈیوٹی کے ابھی چھ گھنٹے باقی ہیں، اور صبح چھ بجے مجھے آئی سی یو (ICU) کے تمام مریضوں کی الگ پروفائل میرے ڈیسک پر چاہیے۔”
انعمتا نے اپنی جھیل جیسی گہری آنکھیں اٹھائیں اور سیدھا صارم کی رعب دار آنکھوں میں دیکھا، جہاں اب غصے کے بجائے ایک چھپی ہوئی حیرت ناچ رہی تھی۔ “سر! آپ کو رپورٹ وقت سے پہلے مل جائے گی۔ شاہ میڈیکل سٹی کے اصولوں کی پاسداری کرنا میں اچھی طرح جانتی ہوں۔”
صارم نے ایک گہرا سانس لیا، اپنی عینک کو ناک پر تھوڑا اوپر سیٹ کیا اور اپنے اسکواڈ کے ساتھ وارڈ سے باہر نکل گیا۔
رات کے تین بجے، جب پورا وارڈ پرسکون تھا، انعمتا کوریڈور کی بینچ پر بیٹھ کر ہسٹری فائلز تیار کر رہی تھی کہ اچانک ہسپتال کا ریڈ الرٹ سائرن بج اٹھا۔ بیپ! بیپ! بیپ!
“ڈاکٹر انعمتا! جلدی آئیے! بیڈ نمبر 5 کے مریض کو اچانک کارڈیک اریسٹ (Cardiac Arrest) ہوا ہے!” نرس نے گھبرا کر چلایا۔
انعمتا بجلی کی تیزی سے اندر بھاگی۔ مانیٹر پر دل کی دھڑکن کی لکیر بالکل سیدھی ہو رہی تھی۔ وقت بہت کم تھا، اور نیورو سرجری کا کوئی سینئر ڈاکٹر وہاں موجود نہیں تھا۔ انعمتا نے بنا وقت ضائع کیے مریض کے چوڑے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور سی پی آر (CPR) دینا شروع کر دیا۔
“ون، ٹو، تھری۔۔۔ سسٹر! جلدی سے ڈیفبریلیٹر (Defibrillator) چارج کیجیے! 200 جولز پر!” انعمتا کی آواز میں اس وقت بلا کا حکم اور دلیری تھی۔ اس کے ماتھے سے پسینے کے قطرے بہہ رہے تھے، مگر اس کے ہاتھ پوری طاقت سے مریض کے دل کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“شاک!” اس نے پیڈز مریض کے سینے پر لگائے۔ مانیٹر پر لکیر پھر بھی سیدھی رہی۔
“دوبارہ چارج کیجیے! 300 جولز!” انعمتا نے ہار نہیں مانی۔ وہ مسلسل سی پی آر دے رہی تھی۔ اس کی پوری روح اس وقت اس مریض کی زندگی کے لیے لڑ رہی تھی۔
اسی لمحے وارڈ کے دروازے کھلے اور ڈاکٹر صارم شاہ اندر داخل ہوا۔ وہ ایمرجنسی سن کر بھاگا آیا تھا، مگر منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے۔
انعمتا پاگلوں کی طرح، پورے جنون اور اخلاص کے ساتھ مریض کا سینہ پریس کر رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معصوم آنسو بہہ رہے تھے۔ “کم آن۔۔۔ یو کین ڈو اٹ۔۔۔ پليز واپس آ جاؤ!” وہ روتے ہوئے پکار رہی تھی۔
صارم شاہ نے زندگی میں پہلی بار کسی جونیئر ڈاکٹر کے اندر مریض کی جان بچانے کا ایسا لرزہ خیز اور سچا جنون دیکھا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر انعمتا کو ہٹانے یا ڈانٹنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ خاموشی سے سحر زدہ ہو کر اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اس وقت کسی مسیحا کی طرح موت کے فرشتے کے سامنے کھڑی تھی۔
بیپ۔۔۔ بیپ۔۔۔ بیپ!
یکدم مانیٹر پر دل کی دھڑکن کی لہریں دوبارہ ابھر آئیں، اور مریض نے ایک گہرا سانس لیا۔ نبض بحال ہو چکی تھی!
انعمتا نے نڈھال ہو کر اپنے ہاتھ روکے، اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ اس نے مانیٹر کو دیکھا، پھر مڑ کر دیکھا تو سامنے ڈاکٹر صارم شاہ کھڑا تھا۔ صارم کی سرمئی، گہری آنکھوں میں اس وقت کوئی تکبر نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب سا، غیر محسوس تحفظ اور بے پناہ احترام تھا جو اس نے آج تک کسی عورت کو نہیں دیا تھا۔
صارم دھیمے قدموں سے اس کے قریب آیا۔ اس نے میز پر پڑا ٹشو باکس اٹھایا اور ایک ٹشو پیپر انعمتا کی طرف بڑھایا۔
“بہت اعلیٰ طبی کارکردگی، ڈاکٹر انعمتا،” صارم کی آواز میں ہمیشہ جیسی سختی نہیں تھی، بلکہ ایک عجب سا دھیما پن تھا جسے انعمتا محسوس کیے بنا نہ رہ سکی۔ “آپ نے ایک گرتی ہوئی نبض کو زندگی دی ہے۔ شاہ میڈیکل سٹی کو آپ جیسے ڈاکٹرز پر فخر ہونا چاہیے۔”
انعمتا نے ٹشو لیا، اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کیا اور نم آنکھوں سے مسکرا دی۔ “شکریہ، سر۔”
صارم اسے وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا، مگر کوریڈور کے اندھیرے میں چلتے ہوئے اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔ وہ جان گیا تھا کہ وہ اس لڑکی کی سرکش نبض کو جھکانے نکلا تھا، مگر اب اس کے اپنے دل کی نبض اس چنچل اور خوددار ڈاکٹر کے حصار میں آ چکی تھی!

You can read more novels from episodic series of best urdu uovels only on UrduNovelsMag.

You can read next episode on the main page of novel Nabz e Baqa.

Scroll to Top