
Saya Mohabbat Episode 1
You can read Episode 1 of Saya Mohabbat Episodic – Best Urdu Novels Series
قسط نمبر 1: موت کا شہر اور پہلا ٹکراؤ
شہرِ لاہور کی فضا پچھلے ایک ماہ سے سسک رہی تھی۔ اکتوبر کی ٹھنڈی ہواؤں میں اب ایک عجیب سا نوحہ تھا، اور رات کے دس بجتے ہی سڑکیں کسی قبرستان کا منظر پیش کرنے لگتیں۔ وجہ صرف ایک تھی—”دی شیڈو” (سایہِ قاتل)۔ ایک ایسا پراسرار اور ہولناک سیریل کلر جس نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہر کے چھ نامور اور بااثر افراد کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
ہر قتل کے بعد لاش کے سینے پر ایک سفید کارڈ ملتا، جس پر گہرے سرخ خون سے صرف ایک جملہ کندہ ہوتا: “پاکیزہ گناہوں کا انجام صرف موت ہے!”مال روڈ پر واقع ایک پرانی، نوآبادیاتی دور کی عالی شان کوٹھی کے باہر اس وقت درجنوں پولیس گاڑیاں، فلیش لائٹس اور میڈیا کی وینز جمع تھیں۔ کوٹھی کے اندر شہر کے نامور جج صاحب کی لاش ان کی اپنی اسٹڈی ٹیبل پر خون میں لت پت پائی گئی تھی۔ یہ “دی شیڈو” کا ساتواں شکار تھا۔پولیس نے پورے علاقے کو پیلے رنگ کی کرائم سین ٹیپ (Crime Scene Tape) سے سیل کر رکھا تھا، لیکن میڈیا کے نمائندے اور کیمرہ مین کسی بھی طرح اندر گھسنے کے لیے بے تاب تھے۔
ٹھیک اسی وقت، سڑک کے دوسرے کونے سے ایک بھاری، خوفناک اور جاندار ہیوی بائیک کی گرجدار آواز گونجی۔ کالی شیشوں والی بلیک ہنڈا سی بی آر پر سوار، بلیک لیدر جیکٹ اور گہرے سن گلاسز (جو رات کے اندھیرے میں بھی اس کی آنکھوں کے جلال کو نہیں چھپا پا رہے تھے) لگائے، ایس ایس پی سارم لغاری نے کرائم سین پر انٹری لی۔سارم لغاری—کاؤنٹر ٹیررازم اور اسپیشل کرائمز یونٹ کا سربراہ۔ چھ فٹ دو انچ قد، چٹان جیسا سخت کسرتی وجود اور چہرے پر ایسا رعب کہ بڑے سے بڑا مجرم بھی اس کے سامنے آنے سے پہلے کلمہ پڑھ لے۔ وہ جتنا بے رحم مجرموں کے لیے تھا، اتنا ہی گہرا مذہبی انسان تھا۔ اس کی بائیک کے ہینڈل پر ایک اونی مصلہ بندھا تھا اور اس کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں اس وقت بھی ایک ڈیجیٹل تسبیح چل رہی تھی۔ اس نے عہد کیا تھا کہ جب تک وہ اس شہر کو “الخوف” کے سائے سے پاک نہیں کرے گا، وہ اپنی زندگی میں کسی دوسرے بندھن کو جگہ نہیں دے گا۔
“لغاری صاحب آ گئے!” کانسٹیبلز نے مستعدی سے سلیوٹ مارا اور کرائم سین کا راستہ کھولا۔ سارم نے بائیک اسٹینڈ پر لگائی، عینک ہٹائی اور اس کی گہری، چیل جیسی کالی آنکھیں کوٹھی کے مرکزی دروازے پر ٹک گئیں۔”پورے علاقے کو بلاک کرو۔ جب تک میں اندر ہوں، میڈیا کا ایک پرندہ بھی اس ٹیپ کو پار نہ کرے،” سارم کی دھیمی لیکن چٹان جیسی سخت اور گرجدار آواز گونجی۔لیکن سارم لغاری عائزہ عباسی کے جنون سے واقف نہیں تھا۔ٹھیک اسی لمحے، میڈیا کی بھیڑ کو چیرتی ہوئی ایک خاتون رپورٹر، پیلے رنگ کی کرائم سین ٹیپ کو جھٹکے سے نیچے کر کے، اپنے گلے میں لٹکا انویسٹی گیٹو جرنلسٹ کا کارڈ لہراتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
یہ عائزہ عباسی تھی—شہر کی سب سے نامور کرمنل سائیکالوجسٹ اور نڈر صحافی۔ اس کا حسن بلا کا تھا، لیکن اس کی زبان کی دھار اور تکبر کسی کو اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتا تھا۔ وہ ماڈرن اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود عورت کے کامل اسلامی معیار پر سختی سے قائم تھی۔ اس نے گہرے سیاہ رنگ کا ایک انتہائی باوقار عبایا پہن رکھا تھا اور سر پر سفید حجاب اتنی نفاست اور حیا کے ساتھ باندھا ہوا تھا کہ اس کا روڈ (Rude) اور ضدی مزاج اس کے اس باحیا روپ کو اور بھی دلکش بنا دیتا تھا۔ وہ مردوں سے پیشہ ورانہ دوری رکھنے کی قائل تھی اور پولیس افسران کو تو وہ شدید نااہل سمجھتی تھی۔
“مس! آپ اندر نہیں جا سکتیں۔ پیچھے ہٹیں!” ایک کانسٹیبل نے اسے روکنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔”اپنا ہاتھ پیچھے رکھیں، افسر!” عائزہ کی کڑک دار، روڈ اور رعب دار آواز گونجی۔ “میں عائزہ عباسی ہوں، اور مجھے جج صاحب کے کیس کی کوریج سے کوئی قانون نہیں روک سکتا۔””میں روک سکتا ہوں، مس عباسی!”ایک بارود جیسی گرم اور چٹان جیسی سخت آواز عائزہ کے کانوں سے ٹکرائی۔ عائزہ نے چونک کر دیکھا تو سامنے سارم لغاری کھڑا تھا۔ اس کا کسرتی وجود عائزہ پر ایک مہیب سایہ ڈال رہا تھا۔
سارم کی گہری کالی آنکھیں عائزہ کے حجاب میں لپٹے مغرور چہرے پر ٹک گئیں۔ سارم نے زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی میں حیا اور اتنے کٹر تکبر کا ایسا شاندار امتزاج دیکھا تھا۔ وہ ایک ہی سیکنڈ میں اندر ہی اندر اس کے اس باوقار روپ پر دیوانہ ہو گیا، لیکن اپنی پوزیشن اور مردانہ غیرت کا پاس رکھتے ہوئے اس نے اپنے چہرے کو مزید سخت کر لیا۔”ایس ایس پی سارم لغاری۔۔۔” عائزہ نے اپنے سن گلاسز ہٹائے اور سارم کی چیل جیسی آنکھوں میں براہِ راست جھانکا۔
اس کی آنکھوں میں سارم کے رعب کا ایک فیصد بھی خوف نہیں تھا۔ “آپ کا یہ پروٹوکول اور یہ بھاری سیکیورٹی پولیس کی نااہلی کو نہیں چھپا سکتی۔ پورا شہر خوف کی لپیٹ میں ہے، ساتواں قتل ہو چکا ہے اور آپ لوگ یہاں صرف کرائم سین کو سیل کرنے میں مصروف ہیں۔”سارم کے لبوں پر ایک انتہائی سرد اور قاتلانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا، جس سے ان کے درمیان کا فاصلہ خطرناک حد تک کم ہو گیا۔ عائزہ کا دل انجانے سحر سے زور سے دھڑکا، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹی۔”یہ تمہارا نیوز روم نہیں ہے، مس عائزہ خان، جہاں تم بیٹھ کر لکچرز دو،” سارم کا لہجہ بلا کا دھیما اور سرد تھا۔ “یہ میرا کرائم سین ہے، اور یہاں صرف لغاری کا قانون چلتا ہے۔ تم نے سیکیورٹی زون کو توڑا ہے، جو کہ ایک جرم ہے۔”سارم نے اپنی پاکٹ سے افیشل چالان بک نکالی، ایک بڑا فائن کارڈ سائن کیا اور عائزہ کے ہاتھ میں دینے کے بجائے، بہت آرام سے اس کے گلے میں لٹکے جرنلسٹ کارڈ کے کلپ میں پھنسا دیا۔
اس کی انگلیوں کا لمس عائزہ کے کارڈ کو چھو گیا، جس سے عائزہ کے پورے وجود میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔”نو ہزار کا فائن ہے، مس عباسی۔ اور کانسٹیبل! ان کو گاڑی میں بٹھائیں اور پولیس ہیڈ کوارٹر لے جا کر ان کا بیان ریکارڈ کریں۔ جب تک یہ فائن کلیئر نہیں ہوگا، یہ یہاں نظر نہ آئیں،” سارم نے مڑ کر اپنے گارڈز کو حکم دیا اور عائزہ کو دوبارہ دیکھے بغیر، اپنی ڈیجیٹل تسبیح پر انگلی چلاتا ہوا کوٹھی کے اندر بڑھ گیا۔”سارم لغاری!” عائزہ کا پورا خون کھولنے لگا۔ اس نے غصے سے چالان کارڈ کو دیکھا۔ اج تک کسی مرد کی جرات نہیں ہوئی تھی کہ عائزہ کو اس طرح نظر انداز کرے اور اس کی توہین کرے۔ “تمہارا یہ غرور میں اسی شہر کی مٹی میں ملا دوں گی، مسٹر ایس ایس پی!” اس نے غصے سے پیر پٹخا اور گارڈز کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھی۔وہ دونوں اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ کوٹھی کے اوپر، چودھویں منزل کے اندھیرے میں کھڑا ایک سایہ (دی شیڈو) بائینوکولر سے ان دونوں کے اس پہلے جاندار ٹکراؤ کو دیکھ رہا تھا، اور اس کے لبوں پر ایک خوفناک مسکراہٹ تھی۔
قاتل کو اس سخت گیر ایس ایس پی کو توڑنے کے لیے عائزہ عباسی کی شکل میں سب سے قیمتی مہرہ مل چکا تھا، اور یہیں سے ان کی نیندیں اڑا دینے والے ڈارک سسپنس اور عشق کا پہلا باب شروع ہو چکا تھا
You can read next episode on the main page of novel Saya Mohabbat.
You can read more novels from episodic series of best urdu uovels only on UrduNovelsMag.



